وادی حسن کی ملکہ


وادی حسن کی ملکہ انمول
لگتی ہے وہ حسینہ انمول
درد دل کی دوا ہو جیسے
تم میرا ہو اک سفینہ انمول
ہائے.یہ زلف سے ٹپکتی شبنم
آنکھ کی مستی کا کرنیہ انمول
 تن قتل گاہ اور اس پہ قیامت
مثل روز روشن جبینہ انمول