شرمشاری
انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے دین اسلام پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ آج ہم رسوائی اور بربادی کے دھانے پر کھڑے ہیں پاک کتاب قران حکیم کو پڑھنے اور سمجھنے کی بجائے ہم نے اس کو تاک پر رکھ دیا ہے اور ہوس اور نفسانی خواہشات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں سب ایک دوڑ میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے اس طرح کے عمل پر ذرہ بھی شرمشار نہیں ہیں میری ایک دوست نے باتوں باتوں میں مجھے بتایا کہ اس نے اپنے محلے کی چند عورتوں کو بنا حجاب کے بازار میں دیکھا وہ ایک پڑھی لکھی اور سلجھی ہوئی فیملی سے تعلق رکھتی تھیں میری دوست کہتی ہے کہ اس نے ان سے پوچھا کہ آپ پردہ کرکے بازار میں آتیں تو انہوں نے کہا کہ ان کو پردہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے
ہمیں ہر طرح کے غلط اور اخلاق سے گرے ہوئے کام کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوتی اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے پر ہمیں شرمندگی محسوس ہونے لگی ہے کچھ دقیانوس لوگوں کی تو یہ سوچ ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والے اصل میں پرانی اور فرسودہ چیزوں پر عمل کرتے ہیں ان کے لیے جدیدیت ہی سب کچھ چاہے اس میں ان کی عزت و غیرت دونوں ہی نیلام ہو رہی ہوں وہ جدیدیت کے گن گاتے عریاں لباس زیب تن کیے نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر گناہوں اور گندگی کی دلدل میں گر گئے ہیں ان کا ضمیر مردہ ہو گیا ہے اور ایسے لوگوں کی بیوی, بیٹی, بہن یا پھر ماں آزادی کے نام پرجس سے بھی تعلقات رکھیں اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ الٹا ان کو شرمناک لباس پہنا کر بازاروں رونق میں اضافہ کرتے ہیں اور خود ہی اپنی عزت و ناموس دونوں کی نمائش کرتے نظر آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بیٹی باپ کو باپ نہیں سمجھتی اور بیٹا ماں کو ماں کا درجہ نہیں دیتا اور یہی وہ آزادی نسواں ہے جس کی ایجنسیاں اور این جی اوز آواز اٹھا رہی ہیں کہ اپنے گھر کی عزت کو گھر میں کیوں محفوظ رکھا ہوا اس کو بازار میں لاؤ اور سب کو گناہوں کی دلدل میں پھیک دو میری سچی اور کڑوی باتیں بظاہر بہت سے لوگوں کو گراں اور ناگوار گزریں گی پر سچائی سچائی ہے اس کو جھوٹ کے پردوں چھپانا مشکل ہے سچائی لاکھ پردے میں رکھو ایک دن وہ روز روشن کی طرح ابھر کر سب گناہوں اور نفسانی خواہشوں کی آنکھیں چندیا دیتی ہے